ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / موصل میں 30داعشی خواتین نے خود کو دھماکے سے اڑایا،ایران اور حزب اللہ کی داعش کے ساتھ ڈیل عراق کی توہین ہے

موصل میں 30داعشی خواتین نے خود کو دھماکے سے اڑایا،ایران اور حزب اللہ کی داعش کے ساتھ ڈیل عراق کی توہین ہے

Mon, 11 Sep 2017 16:06:29    S.O. News Service

ریاض،11ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)عراق کی انسداد دہشت گردی فورس کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر سنہ 2016ء میں موصل شہر میں داعش کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن میں کم سے کم 30داعشی خواتین خود کش بمباروں نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔انسداد دہشت گردی فورس کے ترجمان صباح النعمان نے بتایا کہ داعش کے خلاف جاری آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے داعشی خواتین بمباروں کو زندہ گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مگر اس کے باوجود فورسز صرف دو خواتین بمباروں کو خود کش حملوں سے روکنے میں کامیاب ہوسکیں۔ اس دوران کم سے کم تیس خواتین بمباروں نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

صباح نعمان کا مزید کہنا تھا کہ موصل میں آپریشن کے دوران مجموعی طور پر داعش کی کل 12خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں خلیجی ملکوں کی کوئی خاتون شامل نہیں تاہم گرفتار کی گئی داعشی عورتوں میں چیچنیا، ایران، مراکش اور تیونس کی خواتین شامل تھیں۔ گرفتار کی گئی تمام خواتین کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔خیال رہے کہ موصل اور عراق کے دوسرے شہروں میں داعش کو لگنے والی کاری ضرب کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس کی سرگرمیوں پر کافی اثر پڑا ہے۔ داعش کے خواتین بریگیڈ کتیبہ الخنساء کی سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈہ اور دہشت گردوں کی بھرتی مہم میں کمی دیکھی گئی۔

عراقی انسداد دہشت گردی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ لبنان کی سرحد پر شام کے علاقے میں حزب اللہ اور ایران کی جانب سے داعش کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی جو ڈیل کی ہے اس میں داعش کی خود کش خواتین بمبار بھی ہوسکتی ہیں۔ حزب اللہ اور ایران نے داعش کے جن 600جنگجوؤں کو محفوظ راستہ مہیا کیا ان میں داعش کی خود کش حملہ آوروں کی موجودگی کا قوی امکان موجود ہے۔صباح النعمان نے حزب اللہ اور ایران کی جانب سے داعش کے ساتھ ڈیل کو عراق کی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغداد اس وقت داعش سے مکمل نجات کے لیے تمام وسائل استعمال کررہا ہے جب کہ حزب اللہ اور ایران داعشی دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے بجائے انہیں محفوظ راستے مہیا کررہے ہیں۔


Share: